Google+ پی ای ایف -ٹوسیشن اہم قومی مسائل سے نمٹنے کے لئے سفارشات وضع کریگا ~ Asiatic PR ایشیاٹک پبلک ریلیشنز

Thursday, April 18, 2013


پی ای ایف -ٹو(PEF-II) سیشن اہم قومی مسائل سے نمٹنے کے لئے سفارشات وضع کریگا
کراچی، 17 اپریل 2013: پا کستان بزنس کونسل کی طرف سے اسپانسر کردہ پاکستان اقتصادی فورم، عالمی اقتصادی فورم کے ماڈل پر ایک مشاورتی باڈی نے، ملک کو درپیش اہم مسائل پر اپنے 6 ماہر پینلزکی سفارشات کا مسودہ پیش کیا۔ نمایاں شخصیات اور موضوعات کے ماہرین پر مشتمل پینل تعلیم، توانائی، معاشی استحکام، علاقائی تجارت، سماجی تحفظ اور پانی جیسے 6 زیادہ سنگین چیلنجوں کی نشاندہی کی۔

پی بی سی کے ارکان، اہم اسٹیک ہولڈرز، میڈیا کے ارکان اور دیگر حاضرین نے ہر پینل کی پریزنٹیشن کے بعد بحث میں حصہ لیا اور اور اپنے خیالات کااظہار کیا جنہیں PEF اب اپنی حتمی سفارشات میں شامل کریگا اور انہیں بڑی سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز ،اور انتخابات کے بعد قائم ہونے والی نئی حکومت کوپیش کیا جائے گا۔تاکہ اپنی کوششوں کے ذریعےPEF ملک کو درپیش اہم مسائل اور چیلنجز پر ایک وسیع بحث کو متحرک کرنے کے نقطہ نظر ساتھ ان مسائل کو منظم کرنے کی پالیسیوں پر ایک قومی اتفاق رائے وضع کرسکے۔


ایک دن پر محیط پی ای ایف -ٹو (PEF-II) میں ملک کے سب سے اہم کارپوریٹ رہنماءاور سماجی و اقتصادی ماہرین ایک جگہ جمع ہوگئے، اور وہ ملک کی ترقی اوراستحکام کے لئے درپیش سنگین اور طویل مدتی خطرات و مسائل پرPEF پینلزنے اچھی طرح تحقیق کی اور گہرائی سے تجزیہ کیا۔ دن کا آغاز پی بی سی کے چیرمین سکندر مصطفی خان کے پرجوش خطاب سے ہوا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستا ن کے لئے ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے تمام ممکنہ وسائل موجود ہیں ،لیکن ضروری ہے کہ ان وسائل کو بروئے کار لایا جائے جس کے بغیر ایک ترقی یافتہ ملک بننا ناممکن ہے اور سخت اصلاحی اقدامات اٹھانے کا وقت ابھی ہے۔

ان کی تقریر کے بعد سب سے پہلی پریزنٹیشن ڈاکٹر شمس قاسم لاکھا کی صدارت میں ایجوکیشن پینل نے دی ۔جس کا اہم پیغا م یہ تھا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک بچہ جو اسکول نہیں جاتا اس کا تعلق پاکستان سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فوری طور پالیسی اصلاحات کی ضرور ت ہے جو نہ صرف تعلیم تک رسائی بڑھائے بلکہ تمام سطحوں پر تعلیم کی خاصیت اور معیار تعلیم کو بہتر بنانے میں مدد کرے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ملک کی معیشت کی کامیابی کا دارومدار اس کے انسانی وسائل ، تعلیم کے بجٹ پر منحصر ہے اگلے پانچ سالوں میںتعلیم بجٹ کوجو اس وقت جی ڈی پی کا 2فیصد ہے اسکو بڑھاکر 5 فیصد کرنا ضروری ہے ۔

دوسری پینل پریزنٹیشن پانی پر دی گئی،جو پینل کے چیرمین سکندر مصطفی خان نے سلیمان نجیب خان کی اعانت سے پیش کی۔پریزنٹیشن میں نشاندہی کی گئی کہ پاکستان فی کس 1000مکعب میٹر پانی کی کمی کی حد سے اوپر ہے ۔ پاکستان کی بڑھتی آبادی کے ساتھ، زراعت اور صنعتوں کے لئے پانی کا استعمال ضروری ہے۔ پانی کے وسائل کوسب سے زیادہ موثر طریقے سے استعمال کو یقینی بنانے اور وسط مدتی نقصاندہ بحرانوں سے بچنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہیں۔

فاروق رحمت اللہ کی زیر صدارت توانائی پینل نے توانائی کے بحران پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ توانائی بحران نے پاکستان کی جی ڈی پی کی ترقی کی رفتار کوگزشتہ چار سالوںمیں 3%سے 4%کی شرح کم کردیا ہے اور ملک میں کسی بھی قابل ذکر مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو روک دیا ہے۔ موجودہ توانائی کے تخمینوں کے ساتھ، 2030 تک پاکستان میں توانائی کی مانگ کا تخمینہ فراہمی کے مقابلے میں تقریبا 64 فیصد زیادہ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔پینل نے سفارش کی ہے کہ توانائی کی ایک ایسی وزارت قائم کی جائے جسے توانائی کے ایک مربوط منصوبہ بندی ڈیزائن کرنے کا فرض سونپا جائے گا۔یہ منصوبہ مقامی توانائی کے وسائل کی ترقی کے ساتھ توانائی کی درآمدات اوراس کا مقصد ایک متنوع اقتصادی توانائی منصوبہ ہو۔

ڈاکٹر اسد سیدنے سوشل پروٹیکشن پینل کی صدارت کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ تقریباًپاکستان کی کل آبادی کا آدھا (49فیصد) آج غربت میں رہ رہی ہے اور حکومت جی ڈی پی کا صرف 1فیصد سے کم سماجی تحفظ پر خرچ کرتی ہے،ملک میں غربت اور عدم مساوات کو کم کرنے کے لئے، پینل نے حکومت سے ایک مو

¿ثر سماجی تحفظ کی پالیسی لاگو کرنے کی سفارش کی ۔ٹارگیٹڈ سبسیڈیز ( عام طور پر فائدہ کی مخالفت) میںآئندہ 3سے 5سالوں میںٹارگیٹڈ سبسیڈیز کے لئے جی ڈی پی کا کم سے کم 3 فیصد تک اضافہ کیا جائے ۔

پانچویں پریزینٹیشن میکرو اکنامک کے موضوع پر تھی اور اس پینل کی سربراہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے کی۔ پینل اس نتیجے پر پہنچا کہ میکرو اکنامک ماحول مایوس کن رہا اور پچھلے چار سالوں میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح 2.5% سے 3% کے درمیان رہی۔ پینل نے اس بات پر زور دیا کہ طویل عرصے سے موجود کمزور مالیاتی ڈھانچہ بڑے پیمانے پر لئے جانے والے حکو متی قرضوں اور افراط زر کی شرح میں اضافے کی وجہ ہے جسکی وجہ سے مالیاتی خسارہ 8% تک پہنچ گیا ہے (اسکو کم کر کے 4%) تک لانا ہے ۔ یہ مسائل ، پالیسیوں کی بے یقینی اور کمزور انداز حکمرانی فوری حل طلب معاملات ہیں اگر مجموعی ملکی پیداوار کی شرح کو آنے والے سالوں میں 6% سے 7% کے درمیان برقرار رکھنا ہے۔

آخری پریزینٹیشن علاقائی تجارت کے موضوع پر تھی۔ اس پینل کی سربراہی ڈاکٹر اعجاز نبی کر رہے تھے۔۔ پینل نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی تجارت کی بدولت پاکستان کی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔پاکستان اور بھارت ملا کر جنوبی ایشیا کی مجموعی ملکی پیداوار کا 90 فیصد ہیں اسکے باوجود ان دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت ممکنہ شرح سے بہت نیچے ہے۔ پینل نے سفارش کی کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے لئے پالیسی احتیاط سے مرتب کی جائے جسکا مقصد دیرپا اور برابری کی بنیاد پر تعلقات کیلئے ہموار ماحول پیدا کرنا ہے۔ پینل نے دیگر علاقائی ملکوں سے تجارت کی بھی سفارش کی۔

پاکستان اکنامک فورم کے دوسر ے سیشن نے اس بات کا بیڑا اُٹھایا کہ ان اہم معاملات کی نشاندہی کی جائے جو معاشی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور اس کے ساتھ ایسی قابل عمل تجاویز مرتب کی جائیں جن پر اگر پالیسی سازوں نے عمل کیا تو یہ آنے والے سالوں میں ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد ثابت ہوں گی۔

مزید تفصیلات کے لئے خرم ضیاءخان اور افسر خان ٹیلی فون : 021-35837674

0 comments:

Post a Comment

  • RSS
  • Delicious
  • Digg
  • Facebook
  • Twitter
  • Linkedin
  • Youtube