مثبت
زندگی گزارئیے
یہ واقعی کوئی نہیں جانتا کہ
آزادی کے فوراً بعد، پاکستانیوں کی غیر ممالک منتقلی دراصل کیو ںشروع ہوئی؟ لیکن منتقلی
کا یہ عمل تا حال جاری ہے۔ اور آج ہر دوسرا شخص باہر جانا چاہتا ہے۔
یہ کیوں ہو رہا ہے؟ ایک ایسا
ملک چھوڑنے کا خیال کیوں پیدا ہورہا ہے کہ جس کو حاصل کرنے کے لئے بہت خون بہایا گیا
ہواوریہ ایک وبائی صورت اختیار کیوں کر گیا ہے؟ جب ہم اپنے ارد گرد پھیلی بد انتظامی
اور قوم کے اندر ما یوسی اور افسردگی کے ایک گہرے احساس پر غور کرتے ہیں تو یہ سوالات
بے کار لگتے ہیں۔لیکن کیا ان حالات سے بھاگ کھڑاہونااس کا جواب ہے؟
اگر یہ جواب ہے تو آپ نے اپنے
اندرکااعتماد کھو دیا ہے۔ اور بہت سے یہ کھو چکے ہیں۔ اپنے آپ میں اعتماد کھودینا ،اپنے
اندر خود اعتمادی کا فقدان اور اپنے مخصوص حالات کے ساتھ سمجھوتہ، پھراس کا حل آپ کو
باہر نکلنے کی صورت میں نظر آنے لگتا ہے۔ ہم نے اپنے اندراعتماد کوکیوں کھو دیا ہے؟
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کیاہماری زندگی یہ صرف ہمارے بارے میں ہے یا کیا ہماری زندگی
کا ایک بڑا مقصدبھی ہے؟
اتنے سارے سوالات! اور ان سب
کے لئے جواب ایک ہے۔ اور یہاں میں اپنا پسندیدہ قول ڈالنا چاہوں گا جس کو کبھی کسی
مفکر نے اپنایا ہو۔ یہ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیر کا ایک قول ہے (امید ہے کسی تعارف
کی ضرورت نہیں ہے) اور وہ یہ ہے "تاریخ کو ریکارڈ کرنا پڑے گا کہ سماجی تبدیلی
کے عمل میں اس دور کا سب سے بڑا المیہ بُرے لوگوں کا تیز شور نہیں تھا بلکہ اچھے لوگوں
کی انتہائی خاموشی تھی۔"
میں آپ کے بارے میں تو نہیں جانتا،
لیکن واقعی یہ میری آنکھوں میں آنسو لے کر آتا ہے۔ کیا عجیب بات ہے کہ جوڈاکٹر کنگ
نے امریکی معاشرے کے بارے دہائیاں پہلے جو کہا تھا وہ آج ہمارے معاشرے کے لئے حیرت
انگیز طور پر قابل اطلاق ہے۔
ایک اور انتہائی مبصرانہ مشاہدہ
گزشتہ سال اگست میں ایک اخبار میں شائع ہونے والے مضمون کے ایک مصنف کی طرف سے کیا
گیا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا اور میں انتہائی ادب و احترام کے ساتھ یہ لکھتا ہوں:''
وہ نظام کہ جس نے ہمیں اس افراتفری میں مبتلا کردیا ہے وہ نظام نہیں ہوسکتا ہے جو ہمیں
اس جنجھٹ سے باہر نکال سکے۔ ہمارے ساتھ انتظامی طور پرکچھ توغلط ہے۔ نہ صرف ایک قوم
کی حیثیت سے بلکہ ایک عالمی برادری کے طور پر۔ ایک عہد کے طور پر۔"
اب یہ ایک بہت گہری سوچ ہے اگر
آپ کا دماغ اس کو اس طرح سوچنے پرآمادہ ہے۔ یہ بیماری صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں
ہے جس پر بات کی جائے۔ یہ عالمی سطح پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ، یہ کسی وقت تک بھی محدود
نہیں ہے۔ یہ تمام ادوارتک پھیلا ہواہے۔۔ دور جدید میں وقت گزرنے کے ساتھ نسلوں تک بڑھتی
اور مضبوط ہوئی ۔ یہ دور کب شروع ہواکے معاملہ پربحث مباحثہ ہوسکتا ہے۔ یہ قبول کرنے
کے لئے کافی ہے، کہ یہ ہماری پوری زندگی پر محیط ہے اوراس کا ہماری آئندہ نسلوں کے
اندر موجود رہنے کا خطرہ ہے۔ اس تحریر میں جو پیغام ہے وہ بالکل واضح ہے۔۔ کہ آپ کو
اس تنزلی اور افراتفری سے باہر نکل کراپنے آپ کو مضبوط ترین اوربہتر ین بنانے کے لئے
ایک نئے حل کی ضرورت ہے۔ اس بات کو کنگ کے تفکر سے جوڑیے اور حل خود بخود آپ کے سامنے
آجائے گا۔
یقینا یہ کوئی نیا حل نہیں، یہ
ایسی بات ہے جسے ہم نے ایک نہ ایک مرتبہ سنا ہے، لیکن ناقابل بیان وجوہات کی بنا پر
اس کی کوشش کر نے سے باز رہے ہیں۔ سادہ لفظوں میں حل ہر ایک کی طاقت ہے- مثبت زندگی
گزارنے؛ تبدیلی لانے کے لئے ایک فرد کا غیر مصالحتانہ فیصلہ ضروری ہے۔ آپ دیکھیں لاکھوں
لوگ اس یقین کو اپنا رہے ہیں۔ تصور کیجئے ہزاروں نہیں تو سو ایدھی (اگرچہ کہ کوئی حقیقی
طور ایدھی صاحب کی طرح نہیں بھی ہوسکتاہے) اس خطے میں پیدا ہوسکتے ہیں اور اچھے لوگوں
کی خاموشی کو توڑسکتے ہیں، جیسا کہ کنگ کہتے ہیں۔
اچھی خبر یہ ہے کہ ان مشکل حالات
کے باوجود اور اپنے سامنے دیوار بن کر کھڑی بھاری مشکلات کے ہوتے ہوئے اپنی زندگی کے
ایک وسیع تر مقصد کے احساس کے ساتھ حوصلہ مند اور متحرک پاکستانی کامل یقین، ہمت، درد
مندی کے ساتھ تبدیلی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ اور ہماری خواتین،ایسے مردوں کے
معاشرے میں ہوتے ہوئے بھی جہاں مردوں کے ساتھ برابری کا تصور بھی نہیں ہے مختلف شعبوں
میں مستقل مزاجی ، کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
کم عمر ارفع کریم کو ہی لیجئے
جنہوں نے 9 سال کی عمر میں دنیا کی سب سے کم عمر مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ہونے
کا اعزاز حاصل کیا۔ان متعدد نوجوان لڑکیوں کے بارے میں سوچیں جو ہماری ایئر فورس میں
سپرسونک لڑاکا طیارے اڑا رہی ہیں۔ نوجوان عورت شرمین عبید چنوئی کو دیکھ لیں جو حال
ہی میں آسکرایوارڈ جیتی ہےں اور انہوں نے اس دستاویزی فلم کے ذریعے ایک مقصد کو لیکر
تبدیلی کی کوشش کی ۔نسبتاً نا معلوم اور کم شہرت یافتہ ہیرو ڈاکٹر فہمیدہ فردوس کے
بارے میں سوچیں۔ ایک سمندری حیاتیات کی ماہر، جو کئی دہائیوں سے ہمارے ساحلوں پر موجود
گرین ٹرٹلز کی زندگیوں کو بچانے کے لئے انتھک محنت کر رہی ہیں۔ کیا کوئی ہے جو اس کی
اس خدمت کی تعریف کرے؟ کچھ تعداد جو انہوں نے حاصل کر لی ہے اس کی تعریف کرنے کی ضرورت
ہے؟ ابھی تک تو انہوں نے ساحلوں پر پڑے25,000 ٹرٹلز کے 2.5 ملین انڈوں کو محفوظ بنا
لیا ہے جبکہ ہاکس بے کی ساحلوں اور سینڈسپٹ پر 700,000سے زیادہ پرندے سمندر میں چھوڑے
ہیں۔ یہ عورت تخفیف غربت کے لئے کام نہیں کر رہی ہیں، لیکن ان کا یہ کام بھی عظیم ہے۔
وہ ایک انواع کو ہمیشہ کے لئے ختم ہونے سے بچا رہی ہیں! کیا واقعی کوئی ان کے کام یا
ان کی کامیابیوں کی پیمائش یا قیمت لگا سکتا ہے؟ ناممکن!
اسٹاک مارکیٹس سرمایہ کاروں کوایک
خاص کمپنی کی اسٹاک میں پیسہ لگانے کے کا مشورہ دیتے ہیں، کمپنی کے 'مضبوط بنیادی اصولوں'
کے بارے میںبتاتے ہیں، اگرچہ کہ کمپنی اس وقت بہتر پرفارم نہیں کر رہی، اس کے مضبوط
بنیادی اصولوں کی بدولت اس کا مستقبل روشن ہے،اگر کمپنی کے لوگ اس کے مضبوط اصولوں
پرعمل پیرا ہیں۔ یہ ایک ملک کے لئے بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ ایک کمپنی کے لئے ہے۔ دنیا
کے تمام ترقی پذیر ممالک کے بارے میں سوچیں اور آپ کوشاید ہی کوئی ملک ملے جو ہماری
مضبوط بنیادوںسے مطابقت رکھ سکتا ہو۔ پانچ دریا، زرخیز زمین، وسیع و عریض ساحل، کاربن
ایندھن کے وسیع ذخائر دنیا کی سب سے بڑی تانبے اور سونے کے ذخائر رکھنے والے ممالک
میں سے ایک، انتہائی جفاکش لوگ۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔ مختصراً یہ کہ پاکستان کے بارے میں
مثبت سوچنے کے لئے اور بھی بہت کچھ موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ کو بھی
اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اپنے آپ کواور اپنے جیسے دوسروں کو جو تبدیلی لاسکتے
ہیں کم نہ سمجھیں۔
چاہے اچھے لوگوں کی فہرست مولانا
ایدھی سے شروع ہوتی ہو، لیکن یہ وہاں ختم نہیں ہو سکتی - شکرہے! کہ یہاں بہت سے دوسرے
بھی ہیں، مثبت رہنے والے،جو پوری طرح ثابت کرتے ہیں کہ ایک فرد کی طاقت سے بہت فرق
پڑتا ہے، اگر آپ واقعی تبدیلی لانا چاہتے ہیں یا، اس نعرے کے الفاط میں جو میں نے حال
ہی میں کہیں دیکھا تھا، 'ہو یقین تو کھیلیں خوشیاں'۔
کیا آپ ہیں؟ یا کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ واقعی میںاہل نہیں ہیں
اور سب سے بہتر یہ ہے کہ اپنی بہبود پر توجہ مرکوز کریں، دور فاصلے پر زمین جس میں
سبز گھاس ظاہر ہوتا ہے، لیکن جب آپ وہاں پہنچ جاتے ہیں، آپ محسوس کرتے ہیں آپ اس پر
چل نہیں سکتے۔!
زہیر علی شریف
اپریل 2012











0 comments:
Post a Comment